رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا 02:49 Share to: Twitter Facebook URL Print Email رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیاوہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئیاحساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گاجاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میںدیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرطوہ اپنے نقشِ پا تو مٹا کر نہیں گیا گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئیلگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آکر نہیں گیا تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یادجب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھےاور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگیوہ خار وخس میں آگ لگا کر نہیں گیا شہزاد یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سےجاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا شہزاد احمد Labels: Image Poetry81 Rukhsat hua tu aankh mila kr ni gaia1 Sad Urdu Poetry119 Shehzad Ahmad1
Post a Comment
Click to see the code!
To insert emoticon you must added at least one space before the code.