مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحے 09:26 Share to: Twitter Facebook URL Print Email مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحےتو نے کس آگ میں جل جل کے گذارے ہوں گےکبھی لفظوں میں تھکن تو نے سمیٹی ہو گیکبھی کاغذ پہ فقط اشک اتارے ہوں گےیہ بھی ممکن ہے کہ گذرا ہو ا لمحہ لمحہجس کو میں آج بھی سینے سے لگا رکھتا ہوںتیرے نزدیک فقط یاد کی پر چھائی ہودور کی جیسے تری اس سے شنا سائی ہوجس طرح دھوپ دسمبر کی دریچے سے لگیبے ارادہ کہیں آنگن میں اتر آئی ہوجیسے محفل میں کسی شخص کی تنہائی ہوعاطف سعیدؔ Labels: Atif Saeed4 Image Poetry81 Mujh ko maloom nahi hijar k qatil lamhy1
Post a Comment
Click to see the code!
To insert emoticon you must added at least one space before the code.