خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں 09:23 Share to: Twitter Facebook URL Print Email خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کر رو لوں تو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں میں کہ اک صبر کا صحرا نظر آتا ہوں تجھے تُو جو چاہے تو ترے واسطے دریا رو لوں اور معیار رفاقت کے ہیں ایسا بھی نہیں جو محبت سے ملے ساتھ اسی کے ہولوں خود کو عمروں سے مقفل کئے بیٹھا ہوں فراز وہ کبھی آئے تو خلوت کدۂ جاں کھولوں Labels: Ahmed Faraz9 Famous Urdu Ghazal20 KLhud se roothon tu kae roz na khud se bolon1 Urdu Poetry by Ahmed Faraz4
Post a Comment
Click to see the code!
To insert emoticon you must added at least one space before the code.